خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے 7 بہترین راز جو آپ کی زندگی بدل دیں گے

webmaster

음식물 쓰레기 절감을 위한 캠페인 참여하기 - **A Pakistani family at a dinner table, demonstrating mindful eating and portion control.**
    Prom...

میرے پیارے پڑھنے والو! کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ہم روزانہ کتنا کھانا ضائع کر دیتے ہیں؟ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ شادی بیاہ کی تقریبات ہوں یا ہمارے گھروں میں عام دن کی بچی ہوئی روٹیاں، بہت سا کھانا بے دردی سے کچرے کی نذر ہو جاتا ہے.

음식물 쓰레기 절감을 위한 캠페인 참여하기 관련 이미지 1

ایک ایسے دور میں جہاں مہنگائی نے کمر توڑ دی ہے اور ہمارے کئی بھائی بہن ایک وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں، خوراک کا یہ ضیاع کسی جرم سے کم نہیں لگتا۔ یہ صرف ہمارے دسترخوانوں کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ ایک بہت بڑا قومی اور عالمی مسئلہ ہے جس کے ماحول پر بھی سنگین اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔ پاکستان میں ہر سال لاکھوں ٹن کھانا ضائع ہو جاتا ہے، اور یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ کیا ہم سب مل کر اسے روک نہیں سکتے؟ کیا ہم اس اہم مسئلے کے حل کے لیے اپنا کردار ادا نہیں کر سکتے؟ خوشی کی بات ہے کہ حکومت بھی اب اس جانب توجہ دے رہی ہے اور قومی سطح پر خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کی مہمات کا آغاز کیا جا رہا ہے۔ یہ ہماری اور آپ کی مشترکہ ذمہ داری ہے کہ اس مہم میں بھرپور حصہ لیں اور اپنے پیارے وطن کو بھوک اور غذائی عدم تحفظ سے نجات دلائیں۔ یہ صرف ایک مہم نہیں بلکہ ایک بہتر اور صحت مند مستقبل کی جانب بڑھنے کا قدم ہے۔آئیے، نیچے تفصیل سے جانتے ہیں کہ ہم اس مہم کا حصہ کیسے بن سکتے ہیں اور اپنے گھر سے ہی خوراک کے ضیاع کو کیسے روک سکتے ہیں!

خوراک کا ضیاع: صرف ایک عادت نہیں، ایک بڑا چیلنج

میرے دوستو، مجھے اکثر یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں کتنی بے احتیاطی سے خوراک کو ضائع کرتے ہیں۔ سچی بات پوچھیں تو میں نے خود بھی کئی بار یہ غلطی کی ہے، خاص طور پر دعوتوں یا مہمانوں کے آنے پر۔ ہم ضرورت سے زیادہ کھانا پکا لیتے ہیں اور پھر بچا ہوا کھانا کچرے کی زینت بن جاتا ہے۔ یہ صرف ہمارے گھروں کی بات نہیں، ریستورانوں، ہوٹلوں اور شادی ہالوں میں بھی یہی حال ہے۔ جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں کہ ہمارے ملک میں لاکھوں لوگ بھوک اور غذائی قلت کا شکار ہیں، تو خوراک کا یہ ضیاع مجھے اور بھی زیادہ تکلیف دہ محسوس ہوتا ہے۔ یہ صرف اخلاقی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے معاشی اور ماحولیاتی اثرات بھی بہت گہرے ہیں۔ مہنگائی نے تو پہلے ہی سب کی کمر توڑ رکھی ہے، ایسے میں کھانے کو ضائع کرنا گویا اپنی محنت اور وسائل کو خود اپنے ہاتھوں سے مٹی میں ملانے کے مترادف ہے۔ ہمیں یہ بات سمجھنی ہوگی کہ ہر لقمہ جو ہم ضائع کرتے ہیں، وہ کسی ایسے شخص کا حق ہے جو شاید ایک وقت کی روٹی کو ترس رہا ہے۔ اسی لیے مجھے لگتا ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہم سب کو سنجیدگی سے سوچنے اور عمل کرنے کی ضرورت ہے۔ یہ تبدیلی پہلے اپنے گھر سے شروع ہوگی، پھر محلے اور شہر تک پھیلے گی، ان شاء اللہ۔

کھانے کے ضیاع کی وجوہات

جب ہم کھانے کے ضیاع کی وجوہات پر غور کرتے ہیں تو بہت سی باتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک بڑی وجہ تو منصوبہ بندی کی کمی ہے، ہم اکثر ضرورت سے زیادہ خرید لیتے ہیں یا پکا لیتے ہیں۔ پھر، ہمارے کھانے کی عادات بھی اس میں شامل ہیں جہاں ہم ہر چیز کو ایک ہی وقت میں دسترخوان پر سجا دیتے ہیں، اور جو بچ جاتا ہے وہ شاید دوبارہ کھانے کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔ اس کے علاوہ، مناسب سٹوریج کا نہ ہونا بھی ایک اہم مسئلہ ہے، جس کی وجہ سے پھل، سبزیاں اور دیگر اشیاء وقت سے پہلے خراب ہو جاتی ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ فریج میں سامان اس طرح رکھا ہوتا ہے کہ جو چیز پیچھے رہ گئی وہ آنکھوں سے اوجھل ہو کر خراب ہو جاتی ہے۔ کئی بار ہماری ثقافتی رسم و رواج بھی اس میں اپنا کردار ادا کرتے ہیں، جیسے دعوتوں میں بہت زیادہ انواع و اقسام کے کھانے پیش کرنا، تاکہ مہمانوں پر اچھا تاثر پڑے۔ حالانکہ مہمان کو صرف آپ کا خلوص اور محبت یاد رہتی ہے، نہ کہ دس قسم کے کھانے۔ یہ سب وجوہات مل کر ایک بہت بڑا مسئلہ پیدا کرتی ہیں جس سے نہ صرف ہمارا پیسہ ضائع ہوتا ہے بلکہ ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

خوراک کا ضیاع: ایک عالمی مسئلہ

یہ صرف ہمارے ملک کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا میں خوراک کا ضیاع ایک سنگین چیلنج بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی رپورٹس کے مطابق، ہر سال دنیا بھر میں اربوں ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، اور اس کا ایک بڑا حصہ ترقی پذیر ممالک میں ہوتا ہے، جہاں فصل کی کٹائی کے بعد یا سٹوریج کی کمی کے باعث خوراک خراب ہو جاتی ہے۔ جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں یہ ضیاع زیادہ تر صارفین اور ریٹیل سطح پر ہوتا ہے جہاں لوگ زیادہ خرید لیتے ہیں اور پھر پھینک دیتے ہیں۔ مجھے یاد ہے ایک بار ایک بین الاقوامی فورم پر میں نے سنا تھا کہ اگر دنیا میں ضائع ہونے والے کھانے کا صرف ایک چوتھائی حصہ بھی بچا لیا جائے تو دنیا کے تمام بھوکے افراد کو کھانا کھلایا جا سکتا ہے۔ یہ اعداد و شمار سن کر میرا دل دکھ سے بھر گیا تھا۔ سوچیں، ہم کس قدر وسائل کو بے دردی سے برباد کر رہے ہیں جبکہ ہمارے اردگرد ہی کتنے لوگ دو وقت کی روٹی کو ترس رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا عالمی مسئلہ ہے جس کے لیے عالمی سطح پر کوششوں کی ضرورت ہے، لیکن اس کی بنیاد ہمارے اپنے گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔

گھر میں بچت کی تدابیر: اپنی عادات کیسے بدلیں؟

آئیے اب بات کرتے ہیں عملی اقدامات کی، وہ تدابیر جو ہم اپنے گھروں میں اپنا کر خوراک کے ضیاع کو کم کر سکتے ہیں۔ یہ کوئی راکٹ سائنس نہیں بلکہ چند سادہ سی عادات ہیں جنہیں اپنا کر ہم بڑی تبدیلی لا سکتے ہیں۔ سب سے پہلے تو خریداری کی منصوبہ بندی ضروری ہے، فہرست بنا کر جائیں تاکہ غیر ضروری اشیاء خریدنے سے بچ سکیں۔ مجھے یاد ہے میری امی ہمیشہ ایک فہرست بنا کر دیتی تھیں، اور میں اس سے ہٹ کر کوئی چیز نہیں لاتا تھا۔ آج اس کی اہمیت زیادہ سمجھ آتی ہے۔ اس کے علاوہ، پکی ہوئی خوراک کو صحیح طریقے سے محفوظ کرنا، بچ جانے والے کھانے کو دوبارہ استعمال کرنا اور اپنی پلیٹوں میں صرف اتنا ڈالنا جتنا ہم کھا سکیں، یہ سب چھوٹی چھوٹی باتیں ہیں جن کا مجموعی اثر بہت زیادہ ہوتا ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ ہم پاکستانی یہ سب کام بہت اچھے سے کر سکتے ہیں کیونکہ ہم جگاڑ اور بچت کے ماہر ہیں۔ بس تھوڑی سی توجہ اور شعور کی ضرورت ہے اور یہ مشکل بالکل نہیں رہے گا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس میں تھوڑی سی محنت سے نہ صرف آپ کا بل کم ہو گا بلکہ آپ کو ذہنی سکون بھی ملے گا کہ آپ ایک نیک مقصد میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

سمجھداری سے خریداری

خریداری کرنا ہم سب کو پسند ہے، لیکن جب بات خوراک کی ہو تو سمجھداری سے کام لینا بہت ضروری ہے۔ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ جب میں بغیر فہرست کے سپر سٹور جاتا ہوں تو وہ چیزیں بھی خرید لیتا ہوں جن کی مجھے ضرورت نہیں ہوتی، اور پھر وہ یا تو خراب ہو جاتی ہیں یا ان کا استعمال ہی نہیں ہو پاتا۔ ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ گھر پر موجود تمام اشیاء کی ایک فہرست بنائیں، پھر اس کے مطابق کھانے کی منصوبہ بندی کریں اور صرف وہی چیزیں خریدیں جو آپ کو واقعی درکار ہیں۔ ہفتے بھر کے کھانے کا مینیو پہلے سے طے کرنا بھی بہت مددگار ثابت ہوتا ہے۔ اس سے آپ کو اندازہ ہو جائے گا کہ کس دن کیا پکانا ہے اور اس کے لیے کون کون سی اشیاء کی ضرورت ہے۔ جب ہم مارکیٹ جائیں تو ان اشیاء کو ترجیح دیں جن کی میعاد قریب ہو۔ ہمیشہ تازہ اور معیاری چیزوں کی طرف جانا اچھا ہے لیکن اگر کوئی ایسی چیز مل رہی ہے جو جلد استعمال ہو سکتی ہے اور مناسب قیمت پر ہے تو اسے لینا بھی عقل مندی ہے۔ اس طرح ہم نہ صرف اپنے پیسے بچاتے ہیں بلکہ خوراک کے ضیاع کو بھی کم کرتے ہیں، جو میرے خیال میں ایک بہت بڑی نیکی کا کام ہے۔

کھانے کی منصوبہ بندی اور حصہ کنٹرول

کھانے کی منصوبہ بندی اور حصہ کنٹرول (portion control) خوراک کے ضیاع کو کم کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتے ہیں۔ ہم اکثر کھانا اتنی زیادہ مقدار میں بنا لیتے ہیں کہ وہ بچ جاتا ہے اور پھر پھینکنا پڑتا ہے۔ میری والدہ ہمیشہ کھانے کی مقدار کا بہت خیال رکھتی تھیں، وہ کہتی تھیں “برکت کم میں ہے”۔ اس بات میں بہت سچائی ہے۔ ہمیں گھر میں کھانے کے اوقات اور افراد کی تعداد کے مطابق ہی کھانا پکانا چاہیے۔ اگر بچ بھی جائے تو اسے فوراً فریج میں محفوظ کریں اور اگلے وقت استعمال کرنے کی کوشش کریں۔ میں نے یہ بھی دیکھا ہے کہ بعض اوقات پلیٹوں میں زیادہ کھانا ڈالنے کی وجہ سے بھی ضیاع ہوتا ہے۔ بہتر ہے کہ پہلے کم ڈالیں، اگر ضرورت ہو تو دوبارہ لے لیں، بجائے اس کے کہ پلیٹ میں بچا ہوا کھانا پھینکنا پڑے۔ بچوں کو بھی شروع سے ہی اس عادت کی ترغیب دینی چاہیے کہ وہ اپنی پلیٹ میں صرف اتنا ہی کھانا ڈالیں جتنا وہ کھا سکیں۔ اس سے نہ صرف کھانے کی قدر پیدا ہوگی بلکہ انہیں کفایت شعاری کی اہمیت بھی سمجھ آئے گی۔ یہ ایک سادہ سا اصول ہے جسے اپنا کر ہم سب بہت بڑا فرق لا سکتے ہیں۔

Advertisement

بچے ہوئے کھانے کا بہترین استعمال: تخلیقی حل

کیا آپ جانتے ہیں کہ بچا ہوا کھانا صرف ضائع کرنے کے لیے نہیں ہوتا بلکہ اسے تخلیقی انداز میں استعمال کر کے ہم کئی مزیدار اور نئے پکوان تیار کر سکتے ہیں؟ میں نے خود کئی بار دیکھا ہے کہ جب شام کا سالن بچ جاتا ہے تو امی صبح اس سے پراٹھے بنا لیتی ہیں یا اسے نئے طریقے سے تڑکا لگا کر اس کا ذائقہ بدل دیتی ہیں۔ یہ صرف بچت نہیں بلکہ ایک طرح کی فنکاری ہے۔ پرانے چاولوں سے تلے ہوئے چاول (fried rice) یا چاولوں کی ٹکیاں بنانا، روٹی سے ڈبل روٹی کا حلوہ بنانا، اور بچی ہوئی سبزیوں سے کٹلٹس یا سموسے بنانا یہ سب بہت عام لیکن کارآمد طریقے ہیں۔ ہمیں بس تھوڑی سی تخلیقی سوچ استعمال کرنے کی ضرورت ہے اور ہم بہت سے کھانوں کو ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ اس سے نہ صرف کھانے کا ضیاع رکے گا بلکہ آپ کے باورچی خانے میں تنوع بھی آئے گا اور آپ کے اہل خانہ بھی نئے ذائقوں سے لطف اندوز ہوں گے۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب میں بچے ہوئے کھانے کو نیا روپ دیتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے کہ میں نے کسی چیز کو بے کار نہیں جانے دیا۔

بچے ہوئے کھانے کو دوبارہ تیار کرنا

بچے ہوئے کھانے کو دوبارہ تیار کرنا ایک ایسا ہنر ہے جو ہماری دادیاں اور نانیاں بہت اچھے سے جانتی تھیں۔ آج کے دور میں بھی یہ اتنا ہی کارآمد ہے۔ مثلاً، اگر رات کے شوربے والا سالن بچ گیا ہے تو صبح اس میں تھوڑے سے ابلے ہوئے آلو یا مٹر ڈال کر اسے خشک بھجیا کی شکل دی جا سکتی ہے۔ چکن یا گوشت کا بچا ہوا سالن پیزا ٹاپنگ، سینڈوچ فلنگ یا سموسے کے مصالحے کے طور پر استعمال کیا جا سکتا ہے۔ بچی ہوئی دال سے دال کے پراٹھے یا کباب بنائے جا سکتے ہیں۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں جب چاول بچ جاتے تھے تو میری خالہ ان سے بہت لذیذ کھیر یا فرائیڈ رائس بناتی تھیں جو ہم سب کو بہت پسند آتے تھے۔ ان طریقوں سے نہ صرف کھانا ضائع ہونے سے بچتا ہے بلکہ یہ آپ کے وقت اور پیسے کی بھی بچت کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی عادت ہے جسے اپنانے میں ذرا بھی ہچکچاہٹ محسوس نہیں کرنی چاہیے، کیونکہ یہ ہوشیاری اور کفایت شعاری کی علامت ہے۔

نئی ترکیبیں اور تجربات

بچے ہوئے کھانے کو استعمال کرنے کا ایک اور بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس سے بالکل نئی اور مختلف ترکیبیں تیار کی جائیں۔ اپنی تخیلاتی صلاحیتوں کو استعمال کریں اور باورچی خانے میں تجربات کریں۔ مثلاً، اگر آپ کے پاس بچی ہوئی سبزیاں ہیں تو ان سے ایک مزیدار سوپ، سبزیوں کے کباب یا پکوڑے بنائے جا سکتے ہیں۔ بچی ہوئی روٹیوں کو خشک کر کے بریڈ کرمبز بنائے جا سکتے ہیں جو کٹلٹس یا چپس بنانے میں کام آتے ہیں۔ اسی طرح، پھلوں کو اگر زیادہ دیر ہو جائے تو ان سے شیکس، سمودیز یا جیم بنایا جا سکتا ہے۔ میں نے ایک بار دیکھا کہ ایک بلاگر نے بچی ہوئی ابل ہوئی چکن سے چکن نگٹس بنا کر دکھائے تھے، وہ اتنے لذیذ تھے کہ کسی کو یقین ہی نہیں آیا کہ یہ بچے ہوئے چکن سے بنے ہیں۔ یہ نئے تجربات نہ صرف کھانے کے ضیاع کو روکتے ہیں بلکہ آپ کے باورچی خانے میں نئی جان ڈال دیتے ہیں اور آپ کو ایک اچھا باورچی بننے میں مدد بھی دیتے ہیں۔ کون کہتا ہے کہ بچا ہوا کھانا بے ذائقہ ہوتا ہے؟

خوراک کو صحیح طریقے سے ذخیرہ کرنا: شیلف لائف بڑھائیں

خوراک کو ضائع ہونے سے بچانے کا ایک اور اہم قدم اسے صحیح طریقے سے ذخیرہ کرنا ہے۔ اگر ہم اشیاء کو درست طریقے سے محفوظ نہ کریں تو وہ وقت سے پہلے خراب ہو جاتی ہیں اور پھر انہیں پھینکنا پڑتا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو شاید ہم میں سے اکثر کے ساتھ پیش آتا ہے۔ سبزیوں اور پھلوں کو دھونے کے بعد خشک کر کے ایئر ٹائٹ کنٹینرز میں رکھنا، گوشت اور مچھلی کو فریزر میں منجمد کرنا، اور خشک اشیاء جیسے دالیں، چاول اور مصالحہ جات کو ہوا بند ڈبوں میں رکھنا بہت ضروری ہے۔ مجھے یاد ہے کہ میری نانی ہمیشہ گندم کو خشک کر کے بڑے بڑے ڈبوں میں رکھتی تھیں تاکہ اس میں کیڑے نہ لگیں۔ یہ پرانے طریقے آج بھی اتنے ہی کارآمد ہیں۔ فریج میں چیزوں کو ترتیب سے رکھنا بھی بہت اہمیت رکھتا ہے تاکہ آپ کو پتہ ہو کہ کون سی چیز کہاں رکھی ہے اور اسے وقت پر استعمال کیا جا سکے۔ جب آپ اپنے گھر میں کھانے پینے کی اشیاء کو منظم طریقے سے ذخیرہ کرتے ہیں تو یہ نہ صرف ان کی شیلف لائف کو بڑھاتا ہے بلکہ آپ کے پیسے کی بھی بچت ہوتی ہے اور آپ کو پریشانی سے بھی بچاتا ہے۔

تازہ اشیاء کی بہتر دیکھ بھال

تازہ پھل اور سبزیاں ہمارے دسترخوان کی رونق ہوتی ہیں، لیکن اگر ان کی مناسب دیکھ بھال نہ کی جائے تو یہ جلد ہی خراب ہو جاتی ہیں۔ میں نے کئی بار یہ غلطی کی ہے کہ سبزیاں لاتے ہی انہیں ایسے ہی فریج میں رکھ دیا، اور چند دنوں میں ہی وہ مرجھا کر قابل استعمال نہیں رہیں۔ اس کا بہترین حل یہ ہے کہ سبزیوں اور پھلوں کو لانے کے بعد فوراً اچھی طرح دھو کر خشک کر لیں اور پھر انہیں کاغذ یا کپڑے میں لپیٹ کر یا ہوا دار تھیلیوں میں رکھ کر فریج میں محفوظ کریں۔ کچھ سبزیاں جیسے پیاز اور آلو فریج میں رکھنے کے بجائے ٹھنڈی اور تاریک جگہ پر رکھنی چاہئیں۔ ٹماٹر کو بھی فریج سے باہر رکھنا چاہیے تاکہ ان کا ذائقہ برقرار رہے۔ ان چھوٹی چھوٹی باتوں پر عمل کر کے ہم اپنی تازہ اشیاء کی شیلف لائف کو بڑھا سکتے ہیں اور انہیں ضائع ہونے سے بچا سکتے ہیں۔ یہ آپ کے باورچی خانے کے بجٹ پر بھی مثبت اثر ڈالے گا اور آپ کو ہر بار نئی سبزیاں خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔

خشک اور ڈبہ بند اشیاء کا صحیح انتظام

خشک اور ڈبہ بند اشیاء جیسے چاول، دالیں، آٹا، چینی، نمک، مصالحہ جات اور ڈبہ بند غذائیں بھی اگر صحیح طریقے سے محفوظ نہ کی جائیں تو خراب ہو سکتی ہیں۔ ان اشیاء کو ہمیشہ ہوا بند ڈبوں یا جارز میں رکھنا چاہیے تاکہ ان میں نمی یا کیڑے نہ لگیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ اگر چاول یا دالوں کو کھلا چھوڑ دیا جائے تو کچھ ہی عرصے میں ان میں کیڑے پڑ جاتے ہیں۔ اسی طرح، ڈبہ بند اشیاء کی میعاد (expiry date) کو ہمیشہ چیک کرتے رہنا چاہیے اور انہیں میعاد ختم ہونے سے پہلے استعمال کر لینا چاہیے۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ خشک اشیاء کو کسی ٹھنڈی، تاریک اور خشک جگہ پر رکھنا چاہیے، نہ کہ براہ راست سورج کی روشنی میں۔ فریج کو بھی منظم رکھیں اور ڈبہ بند یا بچے ہوئے کھانے پر تاریخ کا لیبل لگا دیں تاکہ آپ کو معلوم ہو کہ کون سی چیز کب رکھی گئی تھی اور اسے کب تک استعمال کرنا ہے۔ یہ سب باتیں بظاہر چھوٹی لگتی ہیں لیکن عملی طور پر یہ بہت بڑا فرق پیدا کرتی ہیں اور خوراک کے ضیاع کو نمایاں طور پر کم کرتی ہیں۔

Advertisement

کمیونٹی اور حکومتی سطح پر خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کی مہم

خوراک کے ضیاع کو کم کرنا صرف انفرادی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے لیے کمیونٹی اور حکومتی سطح پر بھی کوششوں کی ضرورت ہے۔ مجھے یہ جان کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہماری حکومت اور مختلف فلاحی تنظیمیں اب اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھ رہی ہیں اور اس کے حل کے لیے اقدامات کر رہی ہیں۔ کئی تنظیمیں ایسی ہیں جو شادی ہالوں اور ریستورانوں سے بچا ہوا کھانا جمع کر کے مستحق افراد تک پہنچاتی ہیں۔ یہ ایک بہت ہی احسن قدم ہے اور میں چاہتا ہوں کہ ایسی مزید تنظیمیں اور افراد اس کار خیر میں شامل ہوں۔ حکومت کو بھی چاہیے کہ خوراک کے ضیاع کو روکنے کے لیے مزید مؤثر پالیسیاں بنائے، عوام میں شعور بیدار کرنے کی مہمات چلائے اور فوڈ بینک جیسے منصوبوں کو فروغ دے۔ اگر ہم سب مل کر کام کریں، ہر سطح پر اپنی ذمہ داری کو سمجھیں، تو مجھے یقین ہے کہ ہم اس مسئلے پر قابو پا سکتے ہیں اور اپنے ملک کو بھوک اور غذائی عدم تحفظ سے نجات دلا سکتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مقصد ہے جس کے لیے ہم سب کو متحد ہونے کی ضرورت ہے، کیونکہ یہ ہماری آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کا سوال ہے۔

فوڈ بینک اور فلاحی تنظیموں کا کردار

ہمارے معاشرے میں ایسے کئی ہیرو موجود ہیں جو خاموشی سے خوراک کے ضیاع کو کم کرنے اور مستحقین تک کھانا پہنچانے کے لیے کوشاں ہیں۔ فوڈ بینک اس سلسلے میں ایک بہترین مثال ہیں۔ یہ ایسے مراکز ہوتے ہیں جو ریستورانوں، شادی ہالوں، ہوٹلوں اور گھروں سے بچا ہوا، اچھا اور قابل استعمال کھانا جمع کرتے ہیں اور پھر اسے غریب اور نادار افراد تک پہنچاتے ہیں۔ میں نے ایک بار لاہور میں ایک ایسے فوڈ بینک کا دورہ کیا تھا، وہاں کے رضاکاروں کا جذبہ دیکھ کر میں بہت متاثر ہوا۔ ان کا کام صرف کھانا جمع کرنا نہیں بلکہ اس کی حفظان صحت کا بھی خاص خیال رکھنا ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ، کئی فلاحی تنظیمیں بھی اس کام میں مصروف ہیں جو ضرورت مندوں کو گرم کھانا فراہم کرتی ہیں۔ ہمیں چاہیے کہ ایسی تنظیموں کی مالی اور اخلاقی مدد کریں، اور اگر ممکن ہو تو خود بھی ان کے ساتھ رضاکارانہ طور پر کام کریں۔ یہ صرف کھانا تقسیم کرنا نہیں، یہ بھوک سے لڑنے اور انسانیت کی خدمت کرنے کے مترادف ہے۔

حکومتی پالیسیاں اور عوامی شعور کی مہمات

خوراک کے ضیاع کو قومی سطح پر کم کرنے کے لیے حکومتی پالیسیاں اور عوامی شعور کی مہمات انتہائی اہمیت کی حامل ہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ فوڈ سکیورٹی کو اپنی ترجیحات میں شامل کرے اور ایسی پالیسیاں بنائے جن سے زرعی پیداوار سے لے کر صارفین تک خوراک کے ضیاع کو کم کیا جا سکے۔ مثلاً، کسانوں کو بہتر سٹوریج کی سہولیات فراہم کرنا، ریستورانوں اور ہوٹلوں کے لیے خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے قوانین بنانا، اور اس حوالے سے عوام میں آگاہی پیدا کرنے کے لیے میڈیا پر مہمات چلانا۔ میں نے ایک بار ایک پروگرام میں سنا تھا کہ یورپ کے کئی ممالک میں ایسے قوانین ہیں جہاں ریستورانوں کے لیے بچا ہوا کھانا پھینکنے کی بجائے اسے مستحقین کو دینا لازمی ہے۔ ہمیں بھی ایسے اقدامات کی ضرورت ہے۔ نصاب میں بھی خوراک کی اہمیت اور اس کے ضیاع کے نقصانات کے بارے میں پڑھایا جانا چاہیے تاکہ نئی نسل شروع سے ہی اس مسئلے کی سنگینی کو سمجھے۔ یہ سب اقدامات مل کر ایک بہت بڑی مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں اور ہمارے ملک کو خوراک کے حوالے سے خود کفیل بنا سکتے ہیں۔

خوراک کے ضیاع سے ماحولیاتی فوائد

جب ہم خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کی بات کرتے ہیں تو یہ صرف پیسے کی بچت یا غریبوں کو کھانا کھلانے تک محدود نہیں رہتا بلکہ اس کے ہمارے ماحول پر بھی بہت مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اکثر لوگ یہ سوچتے نہیں کہ خوراک کا ضیاع ماحول کو کیسے متاثر کرتا ہے۔ مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی تھی کہ جب خوراک کچرے کے ڈھیر میں گل سڑ جاتی ہے تو اس سے میتھین گیس پیدا ہوتی ہے جو کاربن ڈائی آکسائیڈ سے بھی زیادہ نقصان دہ گرین ہاؤس گیس ہے۔ یہ گیس موسمیاتی تبدیلیوں (climate change) کا باعث بنتی ہے اور ہمارے ماحول کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ اگر ہم خوراک کو ضائع ہونے سے بچائیں گے تو اس گیس کے اخراج میں کمی آئے گی، جس سے ہمارا سیارہ مزید صاف اور سرسبز ہو گا۔ اس کے علاوہ، خوراک کی پیداوار میں پانی، بجلی اور دیگر وسائل کا استعمال ہوتا ہے۔ جب ہم کھانا ضائع کرتے ہیں تو ان تمام وسائل کا بھی ضیاع ہوتا ہے۔ اس لیے، خوراک کے ضیاع کو کم کرنا دراصل ہمارے سیارے کو بچانے کے مترادف ہے، اور یہ ایک ایسا کام ہے جس میں ہم سب کو بڑھ چڑھ کر حصہ لینا چاہیے۔

کم میتھین گیس کا اخراج

음식물 쓰레기 절감을 위한 캠페인 참여하기 관련 이미지 2

خوراک کا ضیاع اور میتھین گیس کا اخراج ایک دوسرے سے گہرا تعلق رکھتے ہیں۔ جب نامیاتی فضلہ، جس میں زیادہ تر خوراک شامل ہوتی ہے، کچرے کے ڈھیر میں جاتا ہے تو آکسیجن کی غیر موجودگی میں اس کے سڑنے کے عمل سے میتھین گیس پیدا ہوتی ہے۔ یہ گیس گلوبل وارمنگ میں کاربن ڈائی آکسائیڈ سے تقریباً 25 گنا زیادہ مؤثر ہوتی ہے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دستاویزی فلم میں دکھایا گیا تھا کہ کچرے کے پہاڑ کس طرح ماحول کو آلودہ کر رہے ہیں اور اس میں سب سے بڑا حصہ خوراک کے فضلہ کا ہوتا ہے۔ اگر ہم خوراک کے ضیاع کو کم کریں گے تو کچرے کے ڈھیروں کا حجم کم ہو گا، جس سے میتھین گیس کے اخراج میں بھی نمایاں کمی آئے گی۔ یہ ہمارے لیے، ہمارے بچوں کے لیے اور ہمارے سیارے کے لیے بہت ضروری ہے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو ہم ماحولیات کی بہتری کے لیے اٹھا سکتے ہیں، اور اس کا آغاز اپنے گھر سے ہی ہو سکتا ہے۔

پانی اور توانائی کی بچت

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ ایک سیب پیدا کرنے میں کتنا پانی استعمال ہوتا ہے؟ یا ایک روٹی بنانے میں کتنی توانائی صرف ہوتی ہے؟ خوراک کی پیداوار سے لے کر اس کی پیکنگ، ٹرانسپورٹیشن اور پھر ہمارے دسترخوان تک پہنچنے میں بہت زیادہ پانی اور توانائی استعمال ہوتی ہے۔ جب ہم اس خوراک کو ضائع کرتے ہیں تو دراصل ہم ان تمام قیمتی وسائل کو بھی ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔ مجھے یہ سوچ کر دکھ ہوتا ہے کہ ہمارے ملک میں پانی کی قلت ایک سنگین مسئلہ بن چکی ہے، اور ایسے میں ہم اتنے پانی کو صرف اس لیے ضائع کر دیتے ہیں کہ ہم نے اپنی خوراک کو بے احتیاطی سے استعمال کیا۔ اگر ہم خوراک کے ضیاع کو کم کریں گے تو اس کا مطلب ہے کہ کم خوراک پیدا کی جائے گی، اور نتیجتاً پانی اور توانائی کی بچت ہو گی۔ یہ ہمارے ملک کی معیشت اور ماحول کے لیے بہت فائدہ مند ثابت ہو گا۔ یہ ایک ایسا دائرہ ہے جہاں ہر چیز ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے، اور ہمارا ایک چھوٹا سا عمل بھی بہت بڑے مثبت نتائج کا حامل ہو سکتا ہے۔

Advertisement

خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے فوائد کا موازنہ

آئیے، اب ایک نظر ڈالتے ہیں کہ خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے کیا کیا فوائد ہیں اور یہ کس طرح ہماری زندگی کے مختلف شعبوں کو متاثر کرتے ہیں۔ یہ صرف ایک اخلاقی یا ماحولیاتی مسئلہ نہیں بلکہ اس کے ہمارے معاشی اور سماجی حالات پر بھی گہرے مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ جب میں نے خود اپنے گھر میں اس عادت کو اپنایا تو مجھے محسوس ہوا کہ نہ صرف ہمارے کچرے کی مقدار کم ہوئی بلکہ ہمارا ماہانہ بجٹ بھی پہلے سے بہتر ہو گیا۔ یہ ایک ایسا کام ہے جس میں آپ کو ہر طرح سے فائدہ ہی فائدہ نظر آئے گا۔

فوائد کا پہلو وضاحت
مالی بچت خریداری اور کھانے پکانے میں ہوشیاری سے آپ کے ماہانہ اخراجات میں کمی آتی ہے۔
ماحولیاتی تحفظ میتھین گیس کے اخراج میں کمی، پانی اور توانائی کے وسائل کا بہتر استعمال۔
غذائی تحفظ زیادہ سے زیادہ لوگوں تک خوراک کی رسائی، بھوک اور غذائی قلت میں کمی۔
معاشرتی ذمہ داری ایک ذمہ دار شہری کی حیثیت سے اپنے فرائض کی ادائیگی، دوسروں کے لیے مثال قائم کرنا۔
صحت پر مثبت اثرات تازہ اور صحیح طریقے سے محفوظ شدہ خوراک کے استعمال سے بہتر صحت۔
وسائل کا بہتر انتظام زمین، پانی اور افرادی قوت جیسے قیمتی وسائل کا مؤثر استعمال۔

یہ جدول واضح طور پر دکھاتا ہے کہ خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے بے شمار فوائد ہیں۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ ہم ایک ایسی تبدیلی کا حصہ بن سکتے ہیں جو صرف ہمارے اپنے گھروں تک محدود نہیں بلکہ اس کے اثرات عالمی سطح پر مرتب ہوں گے۔ یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ان فوائد کو سمجھیں اور اپنی زندگی میں عملی اقدامات کریں۔

ایک ذمہ دار شہری کا کردار: تبدیلی کی شروعات

میرے پیارے پڑھنے والو! آخر میں، میں آپ سے بس یہی کہنا چاہوں گا کہ خوراک کے ضیاع کو کم کرنا صرف ایک سرکاری مہم نہیں، بلکہ یہ ہم سب کی انفرادی اور اجتماعی ذمہ داری ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم سب مل کر کوشش کریں تو ہم اپنے معاشرے میں ایک مثبت تبدیلی لا سکتے ہیں۔ یہ صرف چند چھوٹی چھوٹی عادات کو اپنانے کی بات ہے جنہیں میں نے آپ کے ساتھ شیئر کیا ہے۔ اپنی خریداری کی عادات سے لے کر کھانے کی منصوبہ بندی، بچے ہوئے کھانے کے استعمال اور اس کی صحیح سٹوریج تک، ہر قدم پر ہم بہتر فیصلہ کر سکتے ہیں۔ مجھے ذاتی طور پر بہت خوشی محسوس ہوتی ہے جب میں اپنے گھر میں کھانے کے ضیاع کو کم ہوتے دیکھتا ہوں اور جانتا ہوں کہ میں کسی نہ کسی طرح اپنے ملک اور ماحول کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہوں۔

ذاتی سطح پر عزم

یہ تبدیلی کسی اور کے کہنے پر نہیں، بلکہ ہمارے اپنے اندر سے شروع ہونی چاہیے۔ ہمیں خود سے یہ وعدہ کرنا ہو گا کہ ہم آئندہ سے خوراک کی قدر کریں گے اور اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ مجھے یاد ہے کہ ایک بار میں نے اپنے بچوں کو سمجھایا کہ ہر دانے میں اللہ کی برکت ہوتی ہے، اور ہمیں اس کی قدر کرنی چاہیے۔ یہ سن کر میرے بچے بھی اب اپنی پلیٹوں میں کھانا چھوڑنے سے پہلے بہت سوچتے ہیں۔ یہ چھوٹی سی تبدیلی دراصل ایک بہت بڑے شعور کی عکاسی کرتی ہے۔ اگر ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں اس عزم کو شامل کر لیں تو یقین مانیں، ہم ایک بہت بڑی نیکی کا حصہ بن جائیں گے۔ یہ ایک ایسا قدم ہے جو آپ کو ذہنی سکون بھی دے گا اور آپ کے گھر میں برکت کا باعث بھی بنے گا۔

مثبت مثال قائم کرنا

ہماری کوششیں صرف اپنے تک محدود نہ رہیں بلکہ ہمیں دوسروں کے لیے بھی ایک مثبت مثال قائم کرنی چاہیے۔ اگر آپ اپنے گھر میں خوراک کے ضیاع کو کم کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں، تو اپنے دوستوں، رشتہ داروں اور پڑوسیوں کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کریں۔ انہیں بھی اس کام کی ترغیب دیں۔ سوشل میڈیا پر بھی آپ اس حوالے سے اپنی پوسٹس شیئر کر سکتے ہیں تاکہ زیادہ سے زیادہ لوگ اس مہم کا حصہ بن سکیں۔ مجھے کئی بار لوگوں نے میسجز کر کے پوچھا کہ میں کھانے کو ضائع ہونے سے کیسے بچاتا ہوں، اور جب میں ان کے ساتھ اپنے تجربات شیئر کرتا ہوں تو مجھے بہت خوشی ہوتی ہے۔ یہ ایک زنجیر کی طرح ہے، جب ایک شخص اپنا کردار ادا کرتا ہے تو دوسرے بھی اس سے متاثر ہوتے ہیں۔ آئیے، ہم سب مل کر ایک ایسے معاشرے کی بنیاد رکھیں جہاں خوراک کی قدر کی جائے اور کوئی بھی شخص بھوکا نہ سوئے۔ یہ ہمارے پیارے وطن پاکستان کو ایک بہتر اور خوشحال ملک بنانے کی جانب ایک اہم قدم ہے۔

Advertisement

بات ختم کرتے ہوئے

میرے پیارے دوستو اور ساتھیو، مجھے امید ہے کہ اس گفتگو سے آپ کو خوراک کے ضیاع کی سنگینی اور اسے کم کرنے کے عملی طریقوں کے بارے میں بہت کچھ سیکھنے کو ملا ہوگا۔ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جس پر ہم سب کو ایک ساتھ مل کر کام کرنا ہے، کیونکہ اس کے اثرات صرف ہمارے گھروں تک محدود نہیں بلکہ ہمارے معاشرے، معیشت اور ماحول پر بھی مرتب ہوتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ ہے کہ جب ہم چھوٹی چھوٹی عادتیں بدلتے ہیں تو اس کا مجموعی اثر بہت بڑا ہوتا ہے۔ تو آئیے، آج سے ہی ہم سب یہ عہد کریں کہ ہم اپنی زندگیوں میں خوراک کی قدر کریں گے اور اسے ضائع نہیں ہونے دیں گے، تاکہ ایک خوشحال اور سرسبز پاکستان کی بنیاد رکھ سکیں۔

آپ کے لیے مفید معلومات

1. اپنی خریداری کی فہرست ہمیشہ پہلے سے تیار کریں تاکہ غیر ضروری اشیاء خریدنے سے بچ سکیں اور صرف ضرورت کے مطابق سامان خریدیں۔

2. ہفتہ بھر کے کھانے کی منصوبہ بندی پہلے سے کر لیں، اس سے آپ کو اندازہ ہو گا کہ کب کیا پکانا ہے اور کھانے کا ضیاع بھی کم ہو گا۔

3. بچا ہوا کھانا ضائع کرنے کی بجائے اسے فریج میں صحیح طریقے سے محفوظ کریں اور اگلے وقت کسی نئی ترکیب کے ساتھ استعمال کریں۔

4. پھلوں اور سبزیوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح خشک کر کے ایئر ٹائٹ کنٹینرز میں رکھیں تاکہ وہ زیادہ دیر تک تازہ رہیں۔

5. فوڈ بینک یا فلاحی تنظیموں کی مدد کریں جو بچا ہوا کھانا جمع کر کے مستحقین تک پہنچاتی ہیں، اس کار خیر میں حصہ ڈالنا باعث اجر ہے۔

Advertisement

اہم نکات کا خلاصہ

خوراک کا ضیاع ایک عالمی مسئلہ ہے جس کے اخلاقی، معاشی اور ماحولیاتی اثرات ہیں۔ اس پر قابو پانے کے لیے انفرادی، کمیونٹی اور حکومتی سطح پر کوششیں ضروری ہیں۔ خریداری کی سمجھداری، کھانے کی منصوبہ بندی، بچی ہوئی خوراک کا تخلیقی استعمال اور صحیح ذخیرہ اندوزی اس مسئلے کو حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔ خوراک کے ضیاع کو کم کرنے سے مالی بچت، ماحولیاتی تحفظ اور غذائی تحفظ جیسے بے شمار فوائد حاصل ہوتے ہیں، جس سے ایک ذمہ دار اور خوشحال معاشرے کی تشکیل ممکن ہوتی ہے۔

اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖

س: ہمارے ملک میں خوراک کا ضیاع ایک سنگین مسئلہ کیوں بن گیا ہے، خاص طور پر موجودہ مہنگائی کے اس دور میں؟

ج: میرے پیارے پڑھنے والو، یہ ایک ایسا سوال ہے جو مجھے اکثر پریشان کرتا ہے۔ میں نے خود اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے کہ کس طرح ہمارے دسترخوانوں پر بے دریغ کھانا چھوڑ دیا جاتا ہے اور پھر کچرے کی نذر ہو جاتا ہے۔ سوچیں، ایک ایسے وقت میں جب مہنگائی آسمان کو چھو رہی ہے اور ہمارے کئی بھائی بہن ایک وقت کی روٹی کے لیے ترستے ہیں، اس کھانے کا ضیاع کسی گناہ سے کم نہیں۔ یہ صرف ایک اخلاقی مسئلہ نہیں، بلکہ اس کے معاشی اور ماحولیاتی اثرات بھی بہت گہرے ہیں۔ جب کھانا ضائع ہوتا ہے تو اس کے ساتھ اسے پیدا کرنے، پیک کرنے اور منتقل کرنے میں لگنے والے تمام وسائل (پانی، بجلی، محنت) بھی ضائع ہو جاتے ہیں۔ اس سے نہ صرف ملک کی معیشت پر بوجھ پڑتا ہے بلکہ ماحول پر بھی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں، جیسے گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج۔ مجھے یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ ہم اپنے ہی ہاتھوں سے کتنے قیمتی وسائل ضائع کر دیتے ہیں۔ اس لیے، یہ ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ اس مسئلے کو سنجیدگی سے لیں اور اس کے حل کے لیے عملی اقدامات کریں۔

س: ہم اپنے گھروں میں روزانہ کی بنیاد پر خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کے لیے کیا عملی اقدامات کر سکتے ہیں؟

ج: ہاں، یہ بہت اہم سوال ہے کہ ہم اپنے گھر سے اس مسئلے کا حل کیسے شروع کر سکتے ہیں۔ میرا ذاتی تجربہ یہ ہے کہ چھوٹی چھوٹی تبدیلیاں بھی بڑا فرق ڈال سکتی ہیں۔ سب سے پہلے تو خریداری کی منصوبہ بندی بہت ضروری ہے۔ گھر سے نکلنے سے پہلے ایک فہرست بنائیں اور صرف وہی چیزیں خریدیں جن کی واقعی ضرورت ہے۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ بغیر منصوبہ بندی کے خریداری اکثر ضرورت سے زیادہ چیزیں خریدنے پر مجبور کرتی ہے جو بعد میں خراب ہو جاتی ہیں۔ دوسرا، کھانے کی مقدار کا خیال رکھیں۔ پلیٹ میں اتنی ہی خوراک ڈالیں جتنی آپ کھا سکتے ہیں، بچ جانے والے کھانے کو پھینکنے کے بجائے اسے محفوظ کریں یا کسی ضرورت مند کو دے دیں۔ تیسرا، بچا ہوا کھانا ہوشیاری سے استعمال کریں۔ ہمارے گھر میں اکثر بچی ہوئی دال یا سبزی کو اگلی بار روٹی کے ساتھ مزیدار طریقے سے پیش کیا جاتا ہے یا نئی ڈش میں شامل کر لیا جاتا ہے۔ چوتھا، اشیاء کو صحیح طریقے سے اسٹور کرنا سیکھیں۔ سبزیوں، پھلوں اور دیگر اشیاء کو فریج میں یا مناسب جگہ پر رکھیں تاکہ وہ دیر تک تازہ رہیں۔ ان اقدامات سے نہ صرف کھانے کا ضیاع کم ہوگا بلکہ آپ کے بجٹ میں بھی نمایاں بہتری آئے گی۔

س: حکومتی سطح پر شروع کی جانے والی خوراک کے ضیاع کو کم کرنے کی مہم میں ہم بطور شہری کس طرح بھرپور حصہ لے سکتے ہیں؟

ج: یہ سن کر بہت خوشی ہوتی ہے کہ ہماری حکومت بھی اس اہم مسئلے پر توجہ دے رہی ہے، اور یہ ہم سب کا فرض ہے کہ اس مہم کو کامیاب بنائیں۔ سب سے پہلا قدم آگاہی پھیلانا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ اگر ہم میں سے ہر شخص اپنے خاندان، دوستوں اور پڑوسیوں کو خوراک کے ضیاع کے نقصانات اور اسے روکنے کے طریقوں کے بارے میں بتائے گا تو ایک بہت بڑی تبدیلی آئے گی۔ آپ اپنے سوشل میڈیا پر اس بارے میں پوسٹ کر سکتے ہیں، یا اپنے محلے میں چھوٹی چھوٹی ملاقاتوں میں اس پر بات کر سکتے ہیں۔ میں نے خود دیکھا ہے کہ جب میں اپنی کہانی کسی کو سناتی ہوں، تو لوگ متاثر ہوتے ہیں اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دوسرا، اگر آپ کسی ایسی تنظیم یا NGO کو جانتے ہیں جو بچا ہوا کھانا اکٹھا کر کے ضرورت مندوں تک پہنچاتی ہے، تو ان کی مدد کریں۔ تیسرا، خود ایک مثال بنیں۔ اپنے گھر میں خوراک کا ضیاع کم کریں اور دوسروں کو بھی ایسا کرنے کی ترغیب دیں۔ جب لوگ دیکھیں گے کہ آپ اس مسئلے پر سنجیدہ ہیں تو وہ بھی آپ کی پیروی کریں گے۔ یہ صرف حکومت کی ذمہ داری نہیں، بلکہ ہم سب کی ہے کہ ایک بہتر، بھوک سے پاک پاکستان بنائیں۔